السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ غیر محرم عورت سے سلام کرنا کیسا ہے ؟ درست ہے یا نہیں؟ کرنا چاہیے کہ نہیں کرنا چاہیے ؟ اگر صحیح ہے تو جواب دیجیے؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
الجواب بعون الملک الوھاب وھو الموفق للحق والصواب
شریعت مطہرہ کی روشنی میں غیر محرم عورت اگر جوان ہے تو اسے مرد کا سلام کرنا مکروہ ہے ۔جیسا کہ امام علاء الدین الحصکفی علیہ الرحمہ نے تحریر کیا ہے ۔
""سلامك مكروه على مصل وتال ذاكر وکذا الأجنبيات الفتيات امنع" نمازی کو تلاوت کرنے،ذکر کرنے کی کو تمہارا سلام کرنا مکروہ ہے ، اسی طرح جوان اجنبیات کو سلام کرنے سے اپنے آپ کو روک۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے:"(قوله الفتيات) جمع فتية: المرأة الشابة ومفهومه جوازه على العجوز" الفتيات ، فتیۃ کی جمع ہے، فتیۃ کا مطلب ہے جوان عورت جس کا مفہوم یہ ہے کہ بوڑی کو سلام کرنا جائز ہے.
( رد المحتارمع در مختار، جلد دوم، کتاب الصلوة، باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها ، مطلب المواضع اللتی یکرہ فیھا السلام، ص 452، ، مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت لبنان)
غیر محرم عورتوں کو سلام کرنے کے متعلق اعلی حضرت قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں "اجنبیات میں جوانوں کو سلام نہ کیا جائے ، بوڑھیوں کو کیا جائے"
(فتاوی رضویہ،ج 22 ، ص 563، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور )واللہ اعلم بالصواب
کتبہ ۔ العبد الضعیف،محمد ایاز حسین تسلیمی بہیڑی ضلع بریلی
ایک تبصرہ شائع کریں